ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل عدالت میں آگ لگنے کی واردات کے بعد ڈسٹرکٹ جج کا بھٹکل دورہ؛ عدالت میں نقصانات کا لیا جائزہ؛ جاری کئے ضروری احکامات

بھٹکل عدالت میں آگ لگنے کی واردات کے بعد ڈسٹرکٹ جج کا بھٹکل دورہ؛ عدالت میں نقصانات کا لیا جائزہ؛ جاری کئے ضروری احکامات

Mon, 05 Jul 2021 20:12:16    S.O. News Service

بھٹکل 5 جولائی (ایس او نیوز)  جمعہ صبح بھٹکل جے ایم سی  عدالت میں اچانک آگ لگنے کی واردات پیش آئی تھی جس میں عدالت کی چھت کو شدید نقصان پہنچا تھا جبکہ ایک زیروکس مشین، کمپوٹر اور ایک ٹی وی  سمیت عدالت کے کئی فرنیچرس جل کر خاکستر ہوگئے تھے، اس تعلق سے نقصانات کا جائزہ لینے کاروار سے ڈسٹرکٹ جج  راج شیکھر نے  بھٹکل عدالت پہنچ کر  نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے  حالات سے آگاہی حاصل کی۔

جج راج شیکھر نے  تعلقہ انتظامیہ   اور آفسران سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہیں ہدایت دی کہ  پہلی فرصت میں عدالت کی چھت کی مرمت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ  دس دن کے اندر عدالت کی چھت اس حد تک  درست ہوجانی چاہئے کہ بارش کا پانی اندر  نہ آسکے اور عدالتی کام بحال ہوسکے، انہوں نے کہا کہ  کورونا  وباء کو دیکھتے ہوئے  نئے سرے سے عمارت  کو تعمیر کرنا آسان نہیں ہوگا اور اس کے لئے کافی   وقت بھی درکار ہوگا اس لئے  کم ازکم چھت کی مرمت کرتے ہوئے عدالت  میں کام  کاج کو بحال کیا جانا ضروری ہے۔

جج راج شیکھر نے  پولس پر زور دیا کہ  وہ  عدالت کی عمارت میں  آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ لگائے۔    شارٹ سرکیوٹ سے آگ لگنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، مگر پولس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے علاوہ بھی آگ لگنے کے دوسرے کیا  وجوہات ہوسکتے ہیں اُس کا بھی پتہ لگائے   اور مکمل چھان بین کی جائے۔

جج راج  شیکھر نے  ضلع کے تمام تعلقہ جات میں  قائم  عدالتوں میں الیکٹرک وائرنگ کو لے کر  ہدایت جاری کی کہ وہ اپنی اپنی عدالتوں کے وائرنگ   کے تعلق سے رپورٹ روانہ کریں کہ  عدالتوں میں وائرنگ کا کس طرح کا انتظام  کیا گیا ہے۔

اس موقع پر  بھٹکل جے ایم ایف سی سیویل سنئیر جج جگدیش شیوپوجے، بھٹکل ڈی وائی ایس پی کے یو بیلی ایپّا، سرکل پولس انسپکٹر دیواکر، سب انسپکٹر سُما، بھٹکل وکیل اسوسی ایشن کے صدر ایم ایل نائیک، ممبرس  جے ڈی نائک، آر آر شریستی، کے ایس رائی، شنکر نائک،  ایس بی بومائی، جے ڈی بھٹ، سدانند جے نائک، پانڈی نائک، ایم جے نائک، ناگراج نائک ، مہیش نائک و دیگر کئی ذمہ داران موجود تھے۔

 


Share: